حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم آیت اللہ حائری شیرازی نے دینی تربیت کے نفسیاتی پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسان کی فطرت میں کہانی سے دلچسپی پائی جاتی ہے، اسی لیے بچوں کی تربیت میں کہانی کا اثر براہِ راست نصیحت کے مقابلے میں زیادہ گہرا اور دیرپا ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کہانی نصیحت سے زیادہ اثرانداز کیوں ہوتی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کی فطرت کہانی کی خواہش رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ گزشتہ لوگوں کے واقعات اور قصوں کو ایک طرح کی سیر و تفریح سمجھتا ہے۔
آیت اللہ حائری شیرازی کے مطابق کہانیاں بچے کی روحانی شخصیت کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کہانیوں کے ذریعے بچے کو اچھائی اور برائی میں فرق کرنے کا معیار ملتا ہے اور وہ واقعات کے درمیان سے صحیح اور غلط کو پہچاننے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر بچہ اچھے اور برے، خوبصورت اور بدصورت، مناسب اور نامناسب کام کے درمیان فرق کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے پہلے سے کچھ معلومات اور معیار کا ہونا ضروری ہے۔ بچہ اپنے فیصلوں کے لیے ضروری ابتدائی معلومات بڑی حد تک کہانیوں کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔
بعض اوقات کوئی ایک بات یا ایک واقعہ بچے کے دل پر اس قدر گہرا اثر ڈالتا ہے کہ وہ بات پوری زندگی اس کی رہنمائی کرتی رہتی ہے۔ ایسی نصیحت، بات یا کہانی بچے کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی اور اس کی زندگی کو ایک خاص سمت عطا کرسکتی ہے۔
ماخذ: راہ رشد، جلد 3، صفحات 88 اور 89










آپ کا تبصرہ